کوئی خاکی بچھونا چاہتی ہوں
میں اب جی بھر کے سونا چاہتی ہوں
زمانے بھر کو اپنا کہہ کے دیکھا
بس اب میں اپنی ہونا چاہتی ہوں
بسر کرنے کو تنہا زندگانی
کوئی ٹوٹا کھلونا چاہتی ہوں
دکھوں کی فصل کاٹی عمر بھر اب
خوشی کے بیج بونا چاہتی ہوں
اگر اک بار وہ مل جائے شازی
گلے مل کر میں رونا چاہتی ہوں
شہناز شازی